حسین ؑ ابن علی ؑ پر سلام کہنا ہے

نظرثانی بتاریخ 16:27، 11 دسمبر 2023ء از Nadim (تبادلۂ خیال | شراکتیں) (←‏مآخذ)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)


حسین ؑ ابن علی ؑ پر سلام کہنا ہے: حماد اہل بیت ؑ سید محسن نقوی کا لکھا ہوا سلام ہے۔

حسین ؑ ابن علی ؑ پر سلام کہنا ہے
معلومات
شاعر کا ناممحسن نقوی
قالبسلام
وزنمفاعلن فعلات مفاعلن فعلن
موضوعاسباب عزا کی اہمیت
زباناردو
تعداد بند7 بند

تعارف

پیش نظر سلام میں سید الشہدا حضرت امام حسین ؑ سے اظہارِ عقیدت کے ساتھ خاکِ شفا، اشکِ غم حسین ؑ اور داغِ ماتم شبیر ؑ کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔

مکمل کلام

بصد رکوع و سجود و قیام کہنا ہےحسین ؑ ابن علی ؑ پر سلام کہنا ہے
زباں کو چاہیے کچھ اعتمادِ خاکِ شفاہمیں جبیں کو معلیٰ مقام کہنا ہے
غمِ حسین ؑ میں اِک اشک کی ضرورت ہےپھر اپنی آنکھ کو کوثر کا جام کہنا ہے
یہ نام کیوں نہ کروں زندگی میں وردِ زباں؟مجھے لحد میں علی ؑ کو امام کہنا ہے
بروز حشر زیارت نصیب ہو تو ہمیںعلی ؑ کے لال سے تھوڑا سا کام کہنا ہے
کہاں تلک نہ سنے گا کوئی حسین ؑ کا ذکریہ داستاں تو ہمیں صبح و شام کہنا ہے
یہ داغِ ماتمِ شبیر ؑ ہے جسے محسناندھیری قبر میں ماہِ تمام کہنا ہے[1]

حوالہ جات

  1. محسن نقوی، فراتِ فکر: ص80

مآخذ

  • محسن نقوی، میراثِ محسن، لاہور، ماورا پبلشرز، 2007ء.