"گوہر کنج حرم" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(ایک ہی صارف کا 5 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 5: سطر 5:
  | شاعر کا نام = محسن نقوی
  | شاعر کا نام = محسن نقوی
  | قالب = مسدس  
  | قالب = مسدس  
  | وزن = مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن
  | وزن = مفعول فاعلات مفاعیل فاعلات
  | موضوع = حضرت علی علیہ السلام
  | موضوع = حضرت علی علیہ السلام
  | مناسبت = 13 رجب
  | مناسبت = 13 رجب
  | زبان = اردو
  | زبان = اردو
  | تعداد بند = 58  
  | تعداد بند = 58 بند
  | منبع =   
  | منبع =   
}}
}}
سطر 16: سطر 16:


==تعارف==
==تعارف==
یہ نعتیہ کلام محسن نقوی کے شعری مجموعے "فراتِ فکر" میں "قریۂ ادراک" کے عنوان سے رقم ہے۔ اس کلام کو نعت خوانوں کے ہاں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی ہے، کچھ نعت خوانوں نے تو دف اور موسیقی کے ساتھ اس کی ریکارڈنگ کرائی ہے۔
اس مسدس میں حضرت امیر المؤمنین ؑ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے بار بار ساقی سے جامِ ولا پلانے کی درخواست پائی جاتی ہے پھر شراب عشق علی ؑ کی تعریف و تمجید اور اس کے اثرات کو حسین پیرائے میں بیان کرتے ہوئے وقتِ ولادت مولائے کائنات ؑ کی منظر کشی کی گئی ہے اور آخری حصے میں جناب امیر ؑ کے فضائل بیان کرتے ہوئے التجائیہ انداز اپنایا گیا ہے۔


==مکمل کلام==
==مکمل کلام==
سطر 308: سطر 308:
{{ب|اے وارثِ نظامِ یسار و یمین ، سُن!|اے محورِ شعاعِ دلِ ماء و طین، سُن!}}
{{ب|اے وارثِ نظامِ یسار و یمین ، سُن!|اے محورِ شعاعِ دلِ ماء و طین، سُن!}}
{{م|اتنا سا معجزہ بھی تِرے حق میں نیک ہے}}
{{م|اتنا سا معجزہ بھی تِرے حق میں نیک ہے}}
{{م|اب بھی تِرا حسین ؑ زمانے میں ایک ہے<ref>محسن نقوی، فرات فکر: ص53</ref>}}
{{م|اب بھی تِرا حسین ؑ زمانے میں ایک ہے<ref>محسن نقوی، موجِ ادراک: ص59</ref>}}


{{پایان شعر}}
{{پایان شعر}}
سطر 315: سطر 315:
{{پانویس}}
{{پانویس}}
==مآخذ==
==مآخذ==
*محسن نقوی، میراثِ محسن، لاہور، ماورا پبلشرز، ۲۰۰۷م.
* محسن نقوی، میراثِ محسن، لاہور، ماورا پبلشرز، 2007ء.
[[زمرہ: محسن نقوی کے دیگر کلام]]
369

ترامیم