مندرجات کا رخ کریں

"موج ادراک" کے نسخوں کے درمیان فرق

(«{{جعبه اطلاعات شعر | عنوان = | تصویر = | توضیح تصویر = | شاعر کا نام = محسن نقوی | قالب = قطعہ | وزن = مفعول مفاعیل مفاعیل فعُولن | موضوع = تخلیق کائنات اور رسول اکرم ؐ کی خلقت | مناسبت = | زبان = اردو | تعداد بند = 86 بند | منبع = }} '''موجِ ادراک:''' حضرت...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا)
 
 
(ایک ہی صارف کا 11 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 13: سطر 13:
}}
}}


'''موجِ ادراک:''' حضرت علی ؑ کی شان میں حماد اہل بیت ؑ سید [[محسن نقوی]] کی لکھی ہوئی منقبت ہے۔
'''موج ادراک:''' حماد اہل بیت سید [[محسن نقوی]] کا انتہائی طویل حمدیہ نعتیہ کلام ہے۔


==تعارف==
==تعارف==
اس مسدس میں حضرت امیر المؤمنین ؑ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے بار بار ساقی سے جامِ ولا پلانے کی درخواست پائی جاتی ہے پھر شراب عشق علی ؑ کی تعریف و تمجید اور اس کے اثرات کو حسین پیرائے میں بیان کرتے ہوئے وقتِ ولادت مولائے کائنات ؑ کی منظر کشی کی گئی ہے اور آخری حصے میں جناب امیر ؑ کے فضائل بیان کرتے ہوئے التجائیہ انداز اپنایا گیا ہے۔
قطعات کی ہیئت میں لکھے گئے اس طویل کلام کا بیشتر حصہ اللہ تعالیٰ کی خالقیت اور تخلیق کائنات سے پہلے کے ماحول کی منظر کشی پر مشتمل ہے جس سے شاعر کی اوج تخیل اور وسعت مطالعہ و مشاہدہ نمایاں ہوتی ہے۔ پھر تکلم کا دھارا وجہ تخلیق دوعالم کی خلقت کی جانب موڑا گیا ہے اور اس میدان میں بھی اشہبِ تخیل کو خوب مہمیز کیا گیا ہے۔


==مکمل کلام==
==مکمل کلام==
{{شعر}}
{{شعر}}
موجِ ادراک
{{ب|یہ دشت یہ دریا یہ مہکتے ہوئے گلزار|}}
{{ب|یہ دشت یہ دریا یہ مہکتے ہوئے گلزار|}}
{{ب|اس عالم امکاں میں ابھی کچھ بھی نہیں تھا|}}
{{ب|اس عالم امکاں میں ابھی کچھ بھی نہیں تھا|}}
سطر 52: سطر 49:
{{ب||چپ چاپ فضاؤں میں مچلتی ہوئی لہریں}}
{{ب||چپ چاپ فضاؤں میں مچلتی ہوئی لہریں}}
{{ب||ماحول کے بے نطق تصور پہ گراں تھیں}}
{{ب||ماحول کے بے نطق تصور پہ گراں تھیں}}


{{ب|غم خانۂ ظلمت نہ کوئی بزمِ چراغاں|}}
{{ب|غم خانۂ ظلمت نہ کوئی بزمِ چراغاں|}}
سطر 68: سطر 64:
{{ب|پتھر کا زمانہ تھا نہ شیشے کے مکاں تھے|}}
{{ب|پتھر کا زمانہ تھا نہ شیشے کے مکاں تھے|}}
{{ب|یہ عقل کا دستور نہ شوریدہ سری تھی|}}
{{ب|یہ عقل کا دستور نہ شوریدہ سری تھی|}}


{{ب||مقتول کی فریاد نہ آوازۂ قاتل}}
{{ب||مقتول کی فریاد نہ آوازۂ قاتل}}
سطر 85: سطر 79:
{{ب||جس طرح کسی اُجڑے ہوئے شہر کے سائے}}
{{ب||جس طرح کسی اُجڑے ہوئے شہر کے سائے}}
{{ب||یا موت کی ہچکی میں پگھلتی ہوئی آواز}}
{{ب||یا موت کی ہچکی میں پگھلتی ہوئی آواز}}


{{ب|جیسے کسی گھر میں صفِ ماتم کی خموشی|}}
{{ب|جیسے کسی گھر میں صفِ ماتم کی خموشی|}}
سطر 102: سطر 94:
{{ب|آفاق کے سینے میں دھڑکنے لگیں کرنیں|}}
{{ب|آفاق کے سینے میں دھڑکنے لگیں کرنیں|}}
{{ب|"شیرازۂ کُن" ڈھل بھی گیا تھا فَیکُوں میں|}}
{{ب|"شیرازۂ کُن" ڈھل بھی گیا تھا فَیکُوں میں|}}


{{ب||ہر سمت بکھرنے لگیں وجدان کی کرنیں}}
{{ب||ہر سمت بکھرنے لگیں وجدان کی کرنیں}}
سطر 119: سطر 109:
{{ب||ہر موج تھی پروردۂ آغوشِ تلاطم!}}
{{ب||ہر موج تھی پروردۂ آغوشِ تلاطم!}}
{{ب||ہر قطرہ کا دل، صورتِ بے خوابئ سیماب}}
{{ب||ہر قطرہ کا دل، صورتِ بے خوابئ سیماب}}


{{ب|شانوں پہ اٹھائے ہوئے بارِ کفِ سیلاب|}}
{{ب|شانوں پہ اٹھائے ہوئے بارِ کفِ سیلاب|}}
سطر 136: سطر 124:
{{ب|یہ کون ہُوا باعثِ تخلیقِ دوعالم! |}}
{{ب|یہ کون ہُوا باعثِ تخلیقِ دوعالم! |}}
{{ب|یہ ارض و سما کیوں ہیں، یہ سب کس کے لیے ہے؟|}}
{{ب|یہ ارض و سما کیوں ہیں، یہ سب کس کے لیے ہے؟|}}


{{ب||تزئینِ مہ و انجم ِ افلاک کا باعث}}
{{ب||تزئینِ مہ و انجم ِ افلاک کا باعث}}
سطر 153: سطر 139:
{{ب||نکھرے کئی بکھرے ہوئے رنگوں کے مناظر}}
{{ب||نکھرے کئی بکھرے ہوئے رنگوں کے مناظر}}
{{ب||فطرت کی تجلی ہوئی آمادۂ اعجاز}}
{{ب||فطرت کی تجلی ہوئی آمادۂ اعجاز}}


{{ب|وہ پیکرِ تقدیس وہ سرمایۂ تخلیق|}}
{{ب|وہ پیکرِ تقدیس وہ سرمایۂ تخلیق|}}
سطر 170: سطر 154:
{{ب|وہ، جس سے رواں موجِ تبسم کی سبیلیں|}}
{{ب|وہ، جس سے رواں موجِ تبسم کی سبیلیں|}}
{{ب|وہ جس کے تکلم کی دَھنک چشمۂ آیات|}}
{{ب|وہ جس کے تکلم کی دَھنک چشمۂ آیات|}}


{{ب||وہ جس کا ثناخوان دلِ فطرت کا تکلُّم!}}
{{ب||وہ جس کا ثناخوان دلِ فطرت کا تکلُّم!}}
سطر 187: سطر 169:
{{ب||ماتھا ہے، کہ وحدت کی تجلی کا ورق ہے}}
{{ب||ماتھا ہے، کہ وحدت کی تجلی کا ورق ہے}}
{{ب||عارض ہیں کہ "والفجر" کی آیت کے اَمیں ہیں}}
{{ب||عارض ہیں کہ "والفجر" کی آیت کے اَمیں ہیں}}


{{ب|گیسو ہیں کہ "واللیل" کے بکھرے ہوئے سائے|}}
{{ب|گیسو ہیں کہ "واللیل" کے بکھرے ہوئے سائے|}}
سطر 204: سطر 184:
{{ب|خطبے ہیں کہ ساون کے اُمنڈتے ہوئے دریا|}}
{{ب|خطبے ہیں کہ ساون کے اُمنڈتے ہوئے دریا|}}
{{ب|قرأت ہے کہ اسرارِ جہاں کھول رہی ہے|}}
{{ب|قرأت ہے کہ اسرارِ جہاں کھول رہی ہے|}}


{{ب||یہ دانت، یہ شیرازۂ شبنم کے تراشے}}
{{ب||یہ دانت، یہ شیرازۂ شبنم کے تراشے}}
سطر 221: سطر 199:
{{ب||یہ پاؤں یہ مہتاب کی کرنوں کے معابد}}
{{ب||یہ پاؤں یہ مہتاب کی کرنوں کے معابد}}
{{ب||یہ نقشِ قدم، بوسہ گہِ رَف رَف و جبریل}}
{{ب||یہ نقشِ قدم، بوسہ گہِ رَف رَف و جبریل}}


{{ب|یہ رفعتِ دستار ہے یا اوجِ تخیّل!|}}
{{ب|یہ رفعتِ دستار ہے یا اوجِ تخیّل!|}}
سطر 238: سطر 214:
{{ب|ملبوسِ کہن یوں شکن آلود ہے جیسے|}}
{{ب|ملبوسِ کہن یوں شکن آلود ہے جیسے|}}
{{ب|ترتیب سے پہلے رُخِ ہستی کے خدو خال|}}
{{ب|ترتیب سے پہلے رُخِ ہستی کے خدو خال|}}


{{ب||رفتار میں افلاک کی گردش کا تصور}}
{{ب||رفتار میں افلاک کی گردش کا تصور}}
سطر 255: سطر 229:
{{ب||وہ صبر کہ شبیر ؑ تِری شاخِ ثمردار}}
{{ب||وہ صبر کہ شبیر ؑ تِری شاخِ ثمردار}}
{{ب||وہ ضبط کہ جس ضبط میں عرفانِ اُمم ہے}}
{{ب||وہ ضبط کہ جس ضبط میں عرفانِ اُمم ہے}}


{{ب|"اورنگِ سلیماں" تِری نعلین کا خاکہ|}}
{{ب|"اورنگِ سلیماں" تِری نعلین کا خاکہ|}}
سطر 272: سطر 244:
{{ب|گردُوں کی بلندی، تِری پاپوش کی پستی|}}
{{ب|گردُوں کی بلندی، تِری پاپوش کی پستی|}}
{{ب|جبریل ؑ کے شہپر تِرے بچوں کی سواری|}}
{{ب|جبریل ؑ کے شہپر تِرے بچوں کی سواری|}}


{{ب||دھرتی کے ذوِی العدل، تِرے حاشیہ بردار}}
{{ب||دھرتی کے ذوِی العدل، تِرے حاشیہ بردار}}
سطر 289: سطر 259:
{{ب||الہام کی بارش میں یہ بھیگے ہوئے الفاظ}}
{{ب||الہام کی بارش میں یہ بھیگے ہوئے الفاظ}}
{{ب||اندازِ نگارش میں یہ حُسنِ رمِ آہُو! }}
{{ب||اندازِ نگارش میں یہ حُسنِ رمِ آہُو! }}


{{ب|حیدر ؑ تِری ہیبت ہے تو حسنین ؑ تِرا حُسن|}}
{{ب|حیدر ؑ تِری ہیبت ہے تو حسنین ؑ تِرا حُسن|}}
سطر 303: سطر 271:


{{ب|پیدا تِری خاطر ہوئے اطراف دوعالم|}}
{{ب|پیدا تِری خاطر ہوئے اطراف دوعالم|}}
{{ب|کونین کی وسعت کا فسوں تیرے لیے ہے
{{ب|کونین کی وسعت کا فسوں تیرے لیے ہے|}}
{{ب|ہر بحر کی موجوں میں تلاطم تِری خاطر|}}
{{ب|ہر بحر کی موجوں میں تلاطم تِری خاطر|}}
{{ب|ہر جھیل کے سینے میں سکوں تیرے لیے ہے|}}
{{ب|ہر جھیل کے سینے میں سکوں تیرے لیے ہے|}}


{{ب||ہر پھول کی خوشبو تِرے دامن سے ہے منسوب}}
{{ب||ہر پھول کی خوشبو تِرے دامن سے ہے منسوب}}
سطر 323: سطر 289:
{{ب||" یہ کاہکشاں" دُھول ہے نقشِ کفِ پا کی}}
{{ب||" یہ کاہکشاں" دُھول ہے نقشِ کفِ پا کی}}
{{ب||ثقلین تِرا صدقۂ انوارِبدن ہے}}
{{ب||ثقلین تِرا صدقۂ انوارِبدن ہے}}


{{ب|ہر شہر کی رونق تِرے رَستے کی جمی دھول|}}
{{ب|ہر شہر کی رونق تِرے رَستے کی جمی دھول|}}
سطر 340: سطر 304:
{{ب|پہنچی ہے جہاں پر تِری نعلین کی مٹی|}}
{{ب|پہنچی ہے جہاں پر تِری نعلین کی مٹی|}}
{{ب|خاکسترِ جبریل بھی پہنچے نہ وہاں تک|}}
{{ب|خاکسترِ جبریل بھی پہنچے نہ وہاں تک|}}


{{ب||سوچیں تو خدائی تِری مرہونِ تصوّر}}
{{ب||سوچیں تو خدائی تِری مرہونِ تصوّر}}
{{ب||دیکھیں تو خدائی سے ہر انداز جدا ہے
{{ب||دیکھیں تو خدائی سے ہر انداز جدا ہے}}
{{ب||یہ کام بشر کا ہے نہ جبریل ؑ کے بس میں}}
{{ب||یہ کام بشر کا ہے نہ جبریل ؑ کے بس میں}}
{{ب||تُو خود ہی بتا اے مِرے مولاؐ کہ تو کیا ہے؟}}
{{ب||تُو خود ہی بتا اے مِرے مولاؐ کہ تو کیا ہے؟}}
سطر 357: سطر 319:
{{ب||انبوہِ ملائک نے ہمیشہ تِری خاطر}}
{{ب||انبوہِ ملائک نے ہمیشہ تِری خاطر}}
{{ب||پلکوں سے تِرے شہر کے رَستے بھی سنوارے}}
{{ب||پلکوں سے تِرے شہر کے رَستے بھی سنوارے}}


{{ب|کہنے کو تو فاقوں پہ بھی گزریں تِری راتیں|}}
{{ب|کہنے کو تو فاقوں پہ بھی گزریں تِری راتیں|}}
سطر 374: سطر 334:
{{ب|کہنے کو تو مسکن تھا تِرا دشت میں لیکن|}}
{{ب|کہنے کو تو مسکن تھا تِرا دشت میں لیکن|}}
{{ب|ہر ذرّہ تِری بخششِ پیہم کا فشاں ہے|}}
{{ب|ہر ذرّہ تِری بخششِ پیہم کا فشاں ہے|}}


{{ب||کہنے کو تو اِک "غارِ حرا" میں تِری مسند}}
{{ب||کہنے کو تو اِک "غارِ حرا" میں تِری مسند}}
سطر 391: سطر 349:
{{ب||پیغمبرِ فردوسِ بریں، ساقئ کوثر}}
{{ب||پیغمبرِ فردوسِ بریں، ساقئ کوثر}}
{{ب||اے منزلِ ادراکِ دل و دیدہ پناہی}}
{{ب||اے منزلِ ادراکِ دل و دیدہ پناہی}}


{{ب|اے باعثِ آئینِ شب و روزِ خلائق|}}
{{ب|اے باعثِ آئینِ شب و روزِ خلائق|}}
سطر 408: سطر 364:
{{ب|میزانِ اَنا، مکتبِ پندارِ تیقّن!|}}
{{ب|میزانِ اَنا، مکتبِ پندارِ تیقّن!|}}
{{ب|اعزازِ خودی، مصدرِ صد رُشد و ہدایات|}}
{{ب|اعزازِ خودی، مصدرِ صد رُشد و ہدایات|}}


{{ب||اے شاکر و مشکور و شکیلِ شبِ عالم}}
{{ب||اے شاکر و مشکور و شکیلِ شبِ عالم}}
سطر 425: سطر 379:
{{ب||زخمی ہے زباں، خامۂ دل خون میں تر ہے}}
{{ب||زخمی ہے زباں، خامۂ دل خون میں تر ہے}}
{{ب||شاعر ہوں مگر دیکھ میں سچ بول رہا ہوں}}
{{ب||شاعر ہوں مگر دیکھ میں سچ بول رہا ہوں}}


{{ب|تُو نے تو مجھے اپنے معارف سے نوازا|}}
{{ب|تُو نے تو مجھے اپنے معارف سے نوازا|}}
سطر 442: سطر 394:
{{ب|تُو نے تو مِرے زخم کو شبنم کی زبان دی|}}
{{ب|تُو نے تو مِرے زخم کو شبنم کی زبان دی|}}
{{ب|میں پھر بھی تڑپتا ہی رہا صورتِ اَسپند|}}
{{ب|میں پھر بھی تڑپتا ہی رہا صورتِ اَسپند|}}


{{ب||تُو نے تو مجھے نکتۂ شیریں بھی بتایا}}
{{ب||تُو نے تو مجھے نکتۂ شیریں بھی بتایا}}
سطر 459: سطر 409:
{{ب||تُو نے تو جدا کرکے دکھایا حق و باطل}}
{{ب||تُو نے تو جدا کرکے دکھایا حق و باطل}}
{{ب||میں پھر بھی تمیزِ حق و باطل میں رہا ہوں}}
{{ب||میں پھر بھی تمیزِ حق و باطل میں رہا ہوں}}


{{ب|تُو نے تو کہا تھا کہ زمیں سب کے لیے ہے|}}
{{ب|تُو نے تو کہا تھا کہ زمیں سب کے لیے ہے|}}
سطر 476: سطر 424:
{{ب|تُو نے کہا تھا کہ "اَحد" ہے وہ اَزل سے|}}
{{ب|تُو نے کہا تھا کہ "اَحد" ہے وہ اَزل سے|}}
{{ب|میں نے اُسے ڈھونڈا ہے سدا "حس و عدد" میں|}}
{{ب|میں نے اُسے ڈھونڈا ہے سدا "حس و عدد" میں|}}


{{ب||اب یہ ہے کہ دنیا ہے مِری تیرہ و تاریک}}
{{ب||اب یہ ہے کہ دنیا ہے مِری تیرہ و تاریک}}
سطر 493: سطر 439:
{{ب||آندھی کی ہتھیلی پہ ہے جگنو کی طرح دل}}
{{ب||آندھی کی ہتھیلی پہ ہے جگنو کی طرح دل}}
{{ب||شعلوں کے تصرف میں رگِ غنچۂ جاں ہے}}
{{ب||شعلوں کے تصرف میں رگِ غنچۂ جاں ہے}}


{{ب|ہر سمت ہے رنج و غم و آلام کی بارش|}}
{{ب|ہر سمت ہے رنج و غم و آلام کی بارش|}}
سطر 504: سطر 448:
{{ب||اب موت بھٹکتی ہے صفِ چارہ گراں میں}}
{{ب||اب موت بھٹکتی ہے صفِ چارہ گراں میں}}
{{ب||سنسان ہے مقتل کی طرح شہر تصوّر}}
{{ب||سنسان ہے مقتل کی طرح شہر تصوّر}}
{{ب||سہمی ہوئی رہتی ہے فغاں، خیمۂ جاں میں<ref>محسن نقوی، فرات فکر: ص22</ref>}}
{{ب||سہمی ہوئی رہتی ہے فغاں، خیمۂ جاں میں<ref>محسن نقوی، موجِ ادراک: ص22</ref>}}
 
{{پایان شعر}}
{{پایان شعر}}


سطر 510: سطر 455:
{{پانویس}}
{{پانویس}}
==مآخذ==
==مآخذ==
*محسن نقوی، میراثِ محسن، لاہور، ماورا پبلشرز، ۲۰۰۷م.
* محسن نقوی، میراثِ محسن، لاہور، ماورا پبلشرز، 2007ء.
[[زمرہ: محسن نقوی کے دیگر کلام]]
[[زمرہ: محسن نقوی کے دیگر کلام]]
369

ترامیم