"جز پنجتن کسی سے تولّا نہ چاہیے" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(ایک ہی صارف کا 3 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 31: سطر 31:
{{ب|دو بیٹیاں تو پاس ہوں، اک جاں بہ لب بعید|میں سچ کہوں، یہ آپ کو بابا، نہ چاہیے}}
{{ب|دو بیٹیاں تو پاس ہوں، اک جاں بہ لب بعید|میں سچ کہوں، یہ آپ کو بابا، نہ چاہیے}}
{{ب|فرقت رہی تو کون سی ہے زندگی کی شکل|بیمار پر عتاب، مسیحا نہ چاہیے}}
{{ب|فرقت رہی تو کون سی ہے زندگی کی شکل|بیمار پر عتاب، مسیحا نہ چاہیے}}
{{ب|کپڑے سفید پہنے جو قاسم نے، بولی ماں|"اتنی بھی سادگی، نئے دولہا نہ چاہیے}}"
{{ب|کپڑے سفید پہنے جو قاسم نے، بولی ماں|"اتنی بھی سادگی، نئے دولہا نہ چاہیے"}}
{{ب|دولہا نے عرض کی کہ "اجل ہے گلے کا ہار"|چہرے پہ مرنے والوں کے سہرا نہ چاہیے}}
{{ب|دولہا نے عرض کی کہ "اجل ہے گلے کا ہار"|چہرے پہ مرنے والوں کے سہرا نہ چاہیے}}
{{ب|پانی کا ذکر کرتی سکینہ تو کہتے شاہ|بی بی محال شے کی تمنا نہ چاہیے}}
{{ب|پانی کا ذکر کرتی سکینہ تو کہتے شاہ|بی بی محال شے کی تمنا نہ چاہیے}}
سطر 46: سطر 46:
{{ب|یہ کون بیبیاں ہیں تمہیں کچھ نہیں خبر|آلِ رسول پر ستم ایسا نہ چاہیے}}
{{ب|یہ کون بیبیاں ہیں تمہیں کچھ نہیں خبر|آلِ رسول پر ستم ایسا نہ چاہیے}}
{{ب|آزار تو نہ دو، جو حمایت نہ ہو سکے|کیوں کلمہ گویو، چاہیے یہ، یا نہ چاہیے}}
{{ب|آزار تو نہ دو، جو حمایت نہ ہو سکے|کیوں کلمہ گویو، چاہیے یہ، یا نہ چاہیے}}
مرقد چراغِ داغ سے روشن رہے انیس|شب کو اکیلے گھر میں اندھیرا نہ چاہیے<ref>زیدی، انیؔس کے سلام: ص125</ref>}}
{{ب|مرقد چراغِ داغ سے روشن رہے انیس|شب کو اکیلے گھر میں اندھیرا نہ چاہیے<ref>زیدی، انیؔس کے سلام: ص125</ref>}}
{{پایان شعر}}
{{پایان شعر}}


369

ترامیم